ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سپریم کورٹ میں آئیں گے چار نئے جج، کالیجیم نے سفارش حکومت کو بھیجی 

سپریم کورٹ میں آئیں گے چار نئے جج، کالیجیم نے سفارش حکومت کو بھیجی 

Thu, 29 Aug 2019 19:46:40    S.O. News Service

نئی دہلی،29/اگست (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ کے جسٹس ابھے منوہر سپرے کے ریٹائر ہونے اور ججوں کے نئے عہدے خالی ہونے کے بعد اب امید ہے کہ جلد ہی سپریم کورٹ میں چار نئے جج مقرر ہوں گے۔سپریم کورٹ کلا لیجیم نے اپنی میٹنگ میں ہماچل پردیش ہائیکورٹ کے چیف جسٹس رام سبرمین، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے جسٹس کرشن مراری، راجستھان ہائی کورٹ سے آر روندر بھٹ اور کیرالہ ہائیکورٹ سے ہرشکیش رائے کے نام کی سفارش سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کے لئے حکومت کو بھیجی ہے۔قانون اور انصاف کی وزارت کے ذرائع کے مطابق اگلے دو تین دنوں میں ہی حکومت اس پر فیصلے کر کے سپریم کورٹ کالیجیم کو بتائے گی۔وہیں حکومت نے جسٹس عقیل قریشی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی ہائی کورٹ کے کالیجیم کی سفارش کو شاید واپس لوٹا دیا ہے۔وزارت قانون کے ذرائع نے بدھ کو یہ معلومات دی۔ذرائع نے اشارہ دیا کہ حکومت جسٹس قریشی کو کسی دوسرے ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کے خلاف نہیں ہے۔تاہم ذرائع نے فائل لوٹانے کے حکومت کے فیصلے کے پیچھے کی وجہ نہیں بتائی۔گجرات ہائی کورٹ ایڈوکیٹ ایسوسی ایشن (جی ایچ سی اے اے) نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے مرکز کو یہ ہدایت دینے کی اپیل کی تھی کہ وہ جسٹس قریشی کی تقرری کو مطلع کرے۔سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ اس جسٹس قریشی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کرنے کی کالیجیم کی سفارش کو لے کر قانون و انصاف کی وزارت کی جانب سے ایک خط ملا ہے۔وزیر جج رنجن گوگوئی کی قیادت والی بنچ نے کہا ہے کہ ان کے دفتر کو وزارت کی جانب سے خط ملا ہے اور اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لینے کے لیے اسے کالیجیم کے سامنے رکھا جائے گا۔مرکز نے 16 اگست کو عدالت سے کہا تھا کہ وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس عقیل قریشی کی تقرری سے منسلک کالیجیم کی 10 مئی کی سفارش پر ایک ہفتے کے اندر فیصلہ لے گا۔گجرات ہائی کورٹ ایڈوکیٹ ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ حکومت دیگر اعلی عدالتوں کے اہم ججوں کی تقرری کو ہری جھنڈی دے چکی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ 10 مئی کو کالیجیم کی طرف سے ان کے نام کی سفارش کئے جانے کے بعد بھی جسٹس قریشی کے نام کو حکومت کی طرف سے مطلع نہیں کیا گیا۔کالیجیم کی تجویز میں کہا گیا تھاکہ جسٹس اے اے قریشی گجرات ہائی کورٹ کے سب سے سینئر جج ہیں۔ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ عوامل کے مدنظرکالیجیم کا خیال ہے کہ جسٹس اے اے قریشی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر مقرر ہونے کے لئے ہر طرح سے موزوں ہیں اسی لیے کالیجیم ان کے نام کی سفارش کرتا ہے۔


Share: